The Power of Dua — Deepening Our Relationship with Allah

Bayan can be accessed here.

Allah ﷻ says:

وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ
“Your Lord has said: Call upon Me; I will respond to you.”
— Surah Ghafir 40:60

And:

وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ ۖ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ
“When My servants ask you about Me, indeed I am near. I respond to the call of the supplicant when he calls upon Me.”
— Surah Al-Baqarah 2:186

One of the most beautiful ways in which a believer develops and maintains a relationship with Allah ﷻ is through Dua. Dua is not merely a means of asking Allah for our needs; it is an expression of our dependence, helplessness and servitude before Him.

Even our desire and ability to perform good deeds are gifts from Allah. The Qur’an reminds us:

وَمَا تَشَاءُونَ إِلَّا أَن يَشَاءَ اللَّهُ
“You do not will unless Allah wills.”

As the poet beautifully expresses:

میں سمجھتا تھا مجھے ان کی طلب ہے اصغرکیا خبر تھی وہ خود لے لیں گے سراپا مجھ کو

I thought it was I who longed for Him;little did I know that He Himself would draw me entirely towards Him.

After some acts of worship, a person may become vulnerable to feelings of self-importance or showing off. Dua has a unique protection against this. When a person raises his hands, acknowledges his weakness, cries over his needs and turns helplessly towards Allah, his closeness to Allah increases while pride decreases. Dua strengthens the reality of ‘Abdiyyah — being a true servant of Allah.

The account of Abdullah al-Andalusi was mentioned as a powerful reminder of the importance of Dua. When he went through a severe trial and strayed from the path, his devoted students continued praying for him. By Allah’s mercy, he eventually returned to guidance. We should therefore never underestimate Dua for someone who appears distant from Allah or has fallen into difficulty.

A practical commitment from today’s Bayan is to reserve 15–20 minutes every day exclusively for a long, heartfelt Dua. Do not make Dua hurriedly. Speak to Allah, acknowledge your dependence upon Him, and ask with complete confidence in His ability to answer.

Our daily routine should include the Masnoon Duas for different occasions, Duas for protection, Duas for our needs and difficulties, and abundant Durood Sharif. Above all, we should make Dua with firm conviction that Allah hears us and that no sincere Dua made to Him is insignificant.

The Bayan concluded with the comprehensive advice of Rasulullah ﷺ:

اتَّقِ اللَّهَ حَيْثُمَا كُنْتَ، وَأَتْبِعِ السَّيِّئَةَ الْحَسَنَةَ تَمْحُهَا، وَخَالِقِ النَّاسَ بِخُلُقٍ حَسَنٍ

“Be mindful of Allah wherever you are; follow a bad deed with a good deed and it will erase it; and deal with people with excellent character.”

Takeaway

Make Dua a daily relationship with Allah, not merely an emergency response. Give Allah 15–20 minutes every day in which you sincerely turn to Him. Remain conscious of Him wherever you are; whenever you slip into a sin, immediately follow it with a good deed; and make excellent character the basis of your dealings with His creation.

دعا — اللہ تعالیٰ سے تعلق اور عبدیت کا راستہ

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ
”اور تمہارے رب نے فرمایا: مجھے پکارو، میں تمہاری دعا قبول کروں گا۔“
— سورۃ غافر: 60

اور فرمایا:

وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ ۖ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ
”اور جب میرے بندے آپ سے میرے بارے میں پوچھیں تو بے شک میں قریب ہوں، دعا کرنے والے کی دعا قبول کرتا ہوں جب وہ مجھے پکارتا ہے۔“
— سورۃ البقرۃ: 186

اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایک مؤمن کے تعلق کا نہایت اہم راستہ دعا ہے۔ دعا صرف اپنی حاجات مانگنے کا نام نہیں بلکہ اپنی کمزوری، محتاجی اور اللہ تعالیٰ کے سامنے کامل بندگی کے اظہار کا نام ہے۔

یہاں تک کہ ہمارے نیک کام، نیکی کی طلب اور نیکی کی توفیق بھی اللہ تعالیٰ ہی کی عطا ہے:

وَمَا تَشَاءُونَ إِلَّا أَن يَشَاءَ اللَّهُ
”اور تم کچھ نہیں چاہ سکتے مگر یہ کہ اللہ چاہے۔“

اسی حقیقت کو شاعر نے خوب بیان کیا:

میں سمجھتا تھا مجھے ان کی طلب ہے اصغر
کیا خبر تھی وہ خود لے لیں گے سراپا مجھ کو

بعض دوسری عبادات کے بعد انسان میں اپنی نیکی کا احساس، عُلو یا دکھلاوا پیدا ہونے کا اندیشہ ہوسکتا ہے، مگر دعا کی کیفیت ہی ایسی ہے کہ انسان اپنی کمزوری کا اقرار کرتا، اپنی حاجتیں پیش کرتا اور اللہ تعالیٰ کے سامنے روتا اور گڑگڑاتا ہے۔ اس سے قربِ الٰہی میں اضافہ ہوتا ہے، تکبر اور عُلو کم ہوتا ہے اور عبدیت مضبوط ہوتی ہے۔

حضرت عبداللہ اندلسیؒ کا واقعہ بھی اسی ضمن میں بیان ہوا۔ ایک شدید آزمائش کے نتیجے میں وہ راستے سے دور ہوگئے، مگر ان کے مریدین ان کے لیے مسلسل دعا کرتے رہے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں دوبارہ ہدایت عطا فرمائی۔ اس واقعے سے یہ سبق ملتا ہے کہ کسی شخص کے حالات کتنے ہی بگڑ جائیں، اس کے لیے دعا کا دامن کبھی نہیں چھوڑنا چاہیے۔

اپنی زندگی میں روزانہ کم از کم 15 سے 20 منٹ لمبی اور دل سے دعا کے لیے مخصوص کریں۔ اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنی حاجات، کمزوریاں اور پریشانیاں رکھیں اور پورے یقین کے ساتھ مانگیں کہ اللہ تعالیٰ سننے والے اور قبول فرمانے والے ہیں۔

خصوصاً موقع محل کی مسنون دعاؤں، حفاظت کی دعاؤں، حاجات کی دعاؤں اور درود شریف کا اہتمام کیا جائے۔ دعا محض زبان سے نہ ہو بلکہ قبولیت کے پورے یقین، توجہ اور امید کے ساتھ ہو۔

آخر میں رسول اللہ ﷺ کی نہایت جامع نصیحت بیان ہوئی:

اتَّقِ اللَّهَ حَيْثُمَا كُنْتَ، وَأَتْبِعِ السَّيِّئَةَ الْحَسَنَةَ تَمْحُهَا، وَخَالِقِ النَّاسَ بِخُلُقٍ حَسَنٍ

”جہاں کہیں بھی ہو اللہ سے ڈرتے رہو، برائی کے بعد فوراً نیکی کرلو، وہ اس برائی کو مٹا دے گی، اور لوگوں کے ساتھ بہترین اخلاق سے پیش آؤ۔“

آج کا عملی پیغام

دعا کو صرف مشکل وقت کا عمل نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ روزانہ کے تعلق کا ذریعہ بنائیں۔ روزانہ 15–20 منٹ صرف اللہ تعالیٰ کے سامنے بیٹھنے اور دل کھول کر دعا کرنے کے لیے رکھیں۔ ہر حال میں تقویٰ اختیار کریں، گناہ ہوجائے تو فوراً نیکی کی طرف بڑھیں، اور اللہ کی مخلوق کے ساتھ بہترین اخلاق سے پیش آئیں۔

Leave a comment